بدھ 10 جون 2026 - 14:15
آیتِ مباہلہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فضائل کی معراج ہے

حوزہ / حجۃ الاسلام والمسلمین اسماعیل رمضانی نے کہا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لیے جو سب سے عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، وہ آیتِ مباہلہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں واقع مسجد جمکران میں عیدِ مباہلہ کی مناسبت سے منعقدہ جشن سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین اسماعیل رمضانی نے آیتِ مباہلہ کو اہل بیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کے بیان میں قرآن کریم کی نمایاں ترین آیات میں شمار کیا۔

انہوں نے کہا کہ امام رضا علیہ السلام سے منقول روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے حق میں جو سب سے بلند فضیلت بیان فرمائی ہے، وہ آیتِ مباہلہ ہے۔

انہوں نے واقعۂ مباہلہ کی تاریخی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب نجران کے عیسائیوں کا وفد متعدد علمی مذاکرات کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی حقانیت کو سمجھ چکا تھا، لیکن اسے قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوا، تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے مباہلہ کا حکم نازل ہوا۔ اس موقع پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سب سے عزیز افراد، یعنی امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو اپنے ہمراہ لے کر آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میدانِ مباہلہ میں اہل بیت علیہم السلام کی موجودگی اس بات کی روشن دلیل تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے الٰہی موقف کی حقانیت پر کامل یقین حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نجران کے عیسائی رہنماؤں نے اس منظر کو دیکھنے کے بعد مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا۔

حجۃ الاسلام رمضانی نے کہا کہ واقعۂ مباہلہ کا ایک اہم درس دعا کی اہمیت ہے۔ اسلامی معارف میں دعا محض ایک عبادت نہیں بلکہ انسان اور معاشرے کی تقدیر بدلنے والی مؤثر قوت ہے۔ متعدد روایات اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ دعا بعض اوقات قضائے حتمی میں بھی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔

انہوں نے حضرت ولی عصر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہت سی الٰہی نصرتیں اور امدادیں بندوں کی دعا اور تضرع کے نتیجے میں نازل ہوتی ہیں۔ لہٰذا منتظر معاشرے کو چاہیے کہ وہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی حقیقی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے ان کے ظہور کے لیے مسلسل دعا کرے۔

انہوں نے زندگی میں بعض روحانی آفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات انسان حق کو اچھی طرح پہچان لیتا ہے، لیکن دنیاوی وابستگیوں اور باطنی آلودگیوں کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتا۔ نجران کے عیسائیوں نے بھی رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کو سمجھ لینے کے باوجود ایمان لانے سے گریز کیا تھا۔

حجۃ الاسلام رمضانی نے حق کی قبولیت یا عدم قبولیت میں رزق اور غذا کے اثرات کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حلال رزق انسان میں ہدایت، بصیرت اور حق شناسی کی صلاحیت کو فروغ دیتا ہے، جبکہ حرام مال انسان کو حق کے ادراک اور اس کی پیروی سے محروم کر سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر مؤمنین کو رزقِ حلال کے حصول اور شرعی حقوق کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دینے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پاکیزہ معیشت اور حلال روزی انسان کی معنوی و معرفتی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha